DailyBazyab pishin

پاکستان اور ازبکستان کا دو طرفہ تلعقات بہتر بنانا کا عزم

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں بالخصوص بجلی کی باہمی ترسیل، قابل تجدید توانائی، پن بجلی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔بدھ کوازبکستان کے 35ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں مضبوط تعاون دونوں ممالک کی وسیع تراقتصادی شراکت داری اور علاقائی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔سردار اویس احمد خان لغاری نے ازبک صدر شوکت مرزیایوف، حکومت اور عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ازبکستان کے لیے مسلسل امن، استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبک عوام کی کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط کو اہمیت دیتا ہے جومشترکہ اسلامی ثقافت اور تہذیب پر مبنی ہیں، پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ازبکستان کی آزادی کو تسلیم کیاجبکہ دونوں ممالک نے 1992 میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان مئی 2027 میں اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 35ویں سالگرہ بھی منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی احترام، مشترکہ تاریخی و ثقافتی اقدار اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی روابط،تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے فروری 2025 میں ازبکستان کے دورے اور صدر شوکت مرزیایوف کے فروری 2026 میں پاکستان کے دورے کے بعد دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار ملی ، تجارت، کان کنی،انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، زراعت، بحری امور اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی بڑھتی ہوئی وسعت اور گہرائی کے عکاس ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More