زیارت سانحہ،21 شہید پولیس اہلکاروں کی شناخت مکمل، میتیں ورثا کے حوالے، بلوچستان سوگوار
ضلع زیارت میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے بلوچستان پولیس کے 21 اہلکاروں کی شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ نے شہدا کی باضابطہ فہرست جاری کر دی ہے۔ ضروری قانونی کارروائی، شناخت اور طبی معائنے کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد شہدا کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں ان کے آبائی علاقوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جا سکے۔ اس افسوسناک سانحے پر بلوچستان بھر میں سوگ کی فضا برقرار ہے، جبکہ عوام، حکام اور مختلف طبقات نے شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحد رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق شہید اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے غیر معمولی بہادری، جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے وطن کی سلامتی، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاستی رٹ کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان بہادر اہلکاروں کی قربانیاں بلوچستان پولیس کی تاریخ کا روشن باب ہیں اور انہیں ہمیشہ فخر کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔حملے کے بعد زخمیوں اور شہدا کو مختلف ذرائع سے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے نے فوری طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قانونی تقاضے اور شناخت کا عمل مکمل کیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمی اہلکاروں کو بھی بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ماہر ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم مسلسل ان کی نگرانی کر رہی ہے۔بلوچستان پولیس، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے امن اور ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے یہ اہلکار پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور امن دشمن قوتوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔زیارت سانحے پر بلوچستان بھر میں غم اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف سرکاری، سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شہدا کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے پولیس فورس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ سول سوسائٹی، وکلا، تاجر تنظیموں، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق شہدا کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے سرکاری اعزاز کے ساتھ سلامی پیش کی جائے گی، جبکہ اعلی حکام، منتخب عوامی نمائندے، پولیس افسران اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت بھی متوقع ہے۔