DailyBazyab pishin

سوشل میڈیا: رشتوں کی دوری یا قربت؟ رشید عاطف

قربت کبھی چند قدموں کی محتاج نہیں ہوتی اور کبھی فاصلے صرف میلوں سے نہیں ناپے جاتے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہم سوشل میڈیا کے سحر میں جکڑے ہوئے ہیں، یہ سوال شدت سے سر اٹھاتا ہے کہ اس ورچوئل دنیا نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کیا ہے یا ہمارے درمیان ایک ایسی پوشیدہ خلیج پیدا کر دی ہے جسے پاٹنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
​اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا نے جغرافیائی دوریاں مٹا دی ہیں۔ سات سمندر پار بیٹھا ہوا شخص بھی اب صرف ایک کلک کی دوری پر ہے۔ ہم لمحوں میں تصویریں، ویڈیوز اور پیغامات کا تبادلہ کر لیتے ہیں اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے جہاں کوئی کسی سے دور نہیں ہے۔ لیکن تضاد یہ ہے کہ آج ہمارے پاس ورچوئل دنیا میں ہزاروں ‘دوست’ اور ‘فالوورز’ ہیں، مگر جب دل اداس ہو یا زندگی کسی کٹھن موڑ پر کھڑی ہو، تو کندھے پر ہاتھ رکھنے والا کوئی حقیقی انسان پاس نہیں ہوتا۔ ہم لائکس اور کمنٹس کی شکل میں عارضی توجہ کے اسیر ہو چکے ہیں اور سکرینوں پر تو ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، مگر دلوں کے فاصلے شاید پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔
​میرے نزدیک اصل قربت جسموں کے ساتھ بیٹھنے یا سکرین پر گھنٹوں چیٹ کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل قربت تو احساس کی سانجھ ہے۔ وہ قربت، جہاں الفاظ کے بغیر بھی دوسرا آپ کی خاموشی کو پڑھ سکے اور جہاں دکھاوے کے ‘ایموجیز’ کی جگہ آنکھوں کی نمی اور مسکراہٹ کی سچائی شامل ہو۔ دوری صرف جسموں کی نہیں ہوتی، بلکہ سب سے خطرناک دوری دلوں کی دوری ہوتی ہے۔ جب ایک ہی کمرے میں بیٹھے کئی افراد اپنے اپنے موبائل فونز میں مگن ہوں، تو وہ جسمانی طور پر تو قریب ہوتے ہیں لیکن ان کے دلوں کے درمیان میلوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں “ان کہی” باتوں کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے، اب ہم رشتوں کو وقت نہیں، بلکہ ‘آن لائن سٹیٹس’ دیتے ہیں۔
​آج کا المیہ یہ ہے کہ رشتوں میں گہرائی کی جگہ سطحی پن نے لے لی ہے۔ ہم کسی کے اچھے برے وقت پر دل سے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے بجائے انٹرنیٹ سے کاپی پیسٹ کیا ہوا مواد بھیج دیتے ہیں۔ جب الفاظ اور احساسات ہی مستعار ہوں، تو ان میں وہ اثر کیسے ہو سکتا ہے جو روح کو چھو لے؟ اگر سوشل میڈیا کو صرف ایک ذریعہ سمجھا جائے تو یہ یقیناً دوریوں کو قربت میں بدل سکتا ہے، لیکن جب یہ ذریعے سے بڑھ کر ہماری زندگی اور رشتوں کا متبادل بن جائے، تو یہ دلوں کو بانجھ کر دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سکرین کے پار چمکتی ہوئی دنیا سے باہر نکلیں اور اپنے اردگرد موجود جیتے جاگتے انسانوں کے لمس، ان کی آواز کے اتار چڑھاؤ اور ان کے حقیقی جذبات کو محسوس کریں۔
​کاسہِ آرزو میں رشتوں کی سچائی تب ہی آ سکتی ہے جب ہم “رابطے” اور “تعلق” کا فرق سمجھیں۔ سوشل میڈیا رابطے کا بہترین ذریعہ ہو سکتا ہے، مگر یہ کبھی بھی سچے تعلق اور دلی قربت کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ زمانوں کی دوریاں دلوں کو دور نہیں کرتیں، بشرطیکہ دلوں میں احساس کی شمع روشن رہے۔ آئیے، اس سکرین کے حصار کو توڑیں اور رشتوں کی حقیقی خوشبو کو دوبارہ اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More